ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / بھٹکل میں دڑھار اور روبیلا (گھور کے انجکشن)کو لینے میں اقلیتی تعلیمی ادارے سب سے پیچھے؛ غلط مسیجس روانہ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کا انتباہ

بھٹکل میں دڑھار اور روبیلا (گھور کے انجکشن)کو لینے میں اقلیتی تعلیمی ادارے سب سے پیچھے؛ غلط مسیجس روانہ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کا انتباہ

Sat, 18 Feb 2017 17:28:52    S.O. News Service

بھٹکل:18/فروری    (ایس او نیوز) 2020تک  دڑھار، روبیلا  جیسی بیماریوں سے مکمل طورپر ملک کو  چھٹکارا دلانے کے لئے حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے  منصوبہ میں بھٹکل  میں سب سے کم بچوں میں انجکشن لگوائے گئے ہیں۔ پورے ضلع میں سب سےپیچھے اگر کوئی شہر ہے تو وہ بھٹکل ہے۔ اور بھٹکل میں بھی صرف مسلم تعلیمی اداروں میں ہی بچوں کو انجکشن لگوانے میں کوتاہی برتی جارہی ہے۔ یہ بات بھٹکل تحصیلدار وی این باڈکر نے کہی، وہ سنیچر کو تحصیلدار دفتر میں منعقدہ خانگی تعلیمی اداروں کی انتظامیہ ،صدور مدرسین  اور مختلف تنظیموں اور اداروں کے عہدیداران کے ساتھ  میٹنگ میں بات کررہے تھے۔ تحصیلدار نے جانکاری دی کہ بھٹکل کے دیہی علاقوں اور کنڑا میڈیم اسکولوں میں یہ مہم 100فی صد کامیاب ہوئی ہے ، لیکن شہر کے اقلیتی انتظامیہ کے تعلیمی اداروں میں والدین اور انتظامیہ کی طرف سے عدم تعاون کی وجہ سے کامیاب نہیں ہوپارہی ہے، کچھ والدین واٹس اپ کے ذریعے پھیلائے گئے بے تکے اور غلط پیغامات پر اعتماد کرتے ہوئے بچوں کو متعلقہ بیماریوں کا انجکشن دینے سے احتراز کررہے ہیں تو یہ بات بھی دیکھنے میں آرہی ہے کہ اسکول  انتظامیہ بھی ان کا بھر  پور تعاون کررہی ہے۔ اور یہ  کوئی اچھی روش نہیں ہے۔

18-bkl-01(1).jpg

حکومت نے ایک بہتر مقصد کو لے کر اس منصوبہ کو جاری کیا ہے۔ بھارت کی  مستقبل کی نسل کو بیماریوں سے پا ک دیکھنا کی بات کہتے ہوئے انہوں نے  اسکول انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ فوری اپنے اپنے اسکولوں کے  طلبا کے والدین کو بلوا کر نشست منعقد کرے اوران میں روبیلا اور دڑھار انجکشن کے متعلق پھیلی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔

تعلقہ میڈیکل آفیسر گرومورتی بھٹ نے میٹنگ میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت نے جومنصوبہ جاری کیا ہے وہ تمام طبقات کو دھیان میں رکھتے ہوئے کیا ہے ، صرف کسی ایک طبقہ کے لئے جاری نہیں کیا گیا ہے انہوں نے ایسی سوچ کو بچکانہ قرار دیتے ہوئے صحیح تناظر میں آگے بڑھنے کی بات کہی۔ ڈاکٹر نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ کچھ لوگ وہاٹس ایپ پر اس طرح کے مسیجس پھیلارہے ہیں کہ صرف مسلم بچوں  کو ہی یہ انجکشن دیاجارہاہے، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی نسل پر برے اثرات پڑیں گے۔ انہوں نے جھوٹی افواہوں کو پھیلانے والوں کے خلاف کیس داخل کرتے ہوئے سخت کارروائی کرنے کی بات کہی۔ انہوں نے افواہوں پر توجہ نہ دے کر انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ والدین کو سمجھائیں اور اُن کی غلط فہمیاں دور کرتے ہوئے  بچوں کو انجکشن دلوانے کے لئے راضی کرائیں۔ انہوں نے کہاکہ بینا وئیدیا، ودیا بھارتی ، آنندآشرم کانونٹ اسکولوں میں 100فی صدبچوں کو انجکشن دئیے گئے ہیں، لیکن اگر بھٹکل کی بات کی جائے تو بھٹکل میں 33ہزار سے زائد بچے ہیں، اور یہاں صرف 16ہزار طلبا کو ہی انجکشن دیاگیا ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ پورے ضلع میں  ایک بھی طالب علم نہ بیمار ہوا ہے نہ کسی کو کچھ تکلیف ہوئی ہے۔ اس لئے والدین کو چاہئے کہ وہ بغیر کسی گھبراہٹ کے ، نڈر ہوکر اپنے اپنے بچوں کوکو انجکشن ڈلوائیں۔

انڈین میڈیکل اسوسی ایشن کے ڈاکٹر آر وی صراف، بھٹکل بلدیہ صدر محمد صادق مٹا، مجلس اصلاح وتنظیم کے نائب صدر عنایت اللہ شاہ بندری ، مرڈیشور مسلم ایجوکیشن سوسائٹی کے ڈاکٹر امین الدین گوڈا،  بی ای اؤ وینکٹیش پٹگار، تعلقہ پنچایت آفیسر سی ٹی نائک سمیت مختلف محکمہ جات کے آفیسران اور عہدیدران میٹنگ میں موجود تھے۔

وہاٹس ایپ پر غلط مسیجس:  ساحل آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے بھٹکل تحصیلدار وی این باڈکر نے بتایا کہ  بھٹکل میں وہاٹس ایپ پر روانہ کئے جانے والے غلط اور بے بنیاد مسیجس اس کے ذمہ دار ہیں کہ مسلم لوگ ڈر اور خوف کی وجہ سے یہ انجکشن اپنے بچوں کو نہیں دلوارہے ہیں۔انہوں نے متنبہ کیا کہ وہاٹس ایپ پر جن لوگوں نے بھی غلط اور بے بنیاد پیغامات روانہ کئے ہیں، اُن سب کے ریکارڈ کی جانچ کی جارہی ہے، اور ایسوں کےخلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔ انہوں نے وہاٹس ایپ پر گردش کرنے والے مسیجوں کو افواہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ غلط مسجیس اور غلط خبریں پیش کرنے کے نتیجے میں ہی بھٹکل میں بالخصوص مسلم ذمہ داران اپنے بچوں کو انجکشن دلوانے میں پیچھے ہٹ رہے ہیں، حالانکہ   پورے ضلع میں نہایت مستعدی کے ساتھ انجکشن لگوانے کی مہم جاری ہے ۔

تحصیلدار نے بتایا کہ سرکارکی جانب سے جو انجکشن مفت میں دلوائے جارہے ہیں، یہی انجکشن پرائیویٹ کلینک میں 3000 روپئے میں دلوائے جاتے ہیں، انہوں نے اس بات کا بھی شک ظاہر کیا کہ کچھ پرائیویٹ ڈاکٹرس اپنی دکان چمکانے کے لئے بھی غلط اور بے بنیاد مسیجس وہاٹس ایپ پر پھیلا سکتے ہیں۔ انہوں نے عوام الناس سے درخواست کی وہ بے بنیاد مسیجس پر بھروسہ نہ کریں۔ اب بھی وقت ہے پہلی فرصت میں اپنے بچوں کو مفت میں یہ انجکشن لگوائیں اور  بھٹکل تعلقہ ایڈمنسٹریشن کے ساتھ تعائون کریں۔


Share: